السلام علیکم۔ تجسس فورم میں خوش آمدید اور ویلکم۔۔۔ تجسس فورم پر آپ پا سکتے ہیں ۔۔۔ الف۔قومی اور بین الاقوامی امور سے متعلق خبریں و معلومات ، جنرل نالج اورشعر و شاعری سے متعلق مواد۔۔۔۔ب۔مختلف بہترین تجزیہ نگاروں کے خیالات پر مبنی کالم /مضامین/آرٹیکلز۔۔۔ج۔تعلیم ،درس و تدریس اورآئی ٹی یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی سےمتعلق مواد جن میں پی ڈی ایف بکس/نوٹس،ٹیوشن وٹیوشن ٹیچرز/ٹیوٹرز،تعلیمی اداروں ،ڈیٹ شیٹس وامتحانات کے نتائج سے متعلق معلومات وغیرہ شامل ہیں۔۔۔۔فی الحال اس فورم کا یہی ایک ہی ویب سائٹ ہے۔ مستقبل قریب میں ایک روزنامہ اخبار اور ایک ماہنامہ رسالہ بھی لانچ کرنے کا ارادہ ہے ان شا اللہ۔

Saturday, October 8, 2016

روح کی موجودگی کے دلائل

"روح کی موجودگی کے دلائل"

"روح کی موجودگی کے دلائل"

تحریر : ارشد خان آستِکؔ؛ اردو شاعر و کالم نگار

خالق ِ کائنات ،خدا اور رب اللہ جل شانہ کی دیگر بیش بہا نشانیوں کی طرح "روح" بھی ایک کھلی نشانی ہے۔ روح جس کو سائنسی اصطلاح میں Vital Force یعنی وہ قوت جس کی وجہ سے حیات ممکن ہوتی ہے،ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل حصوں میں بحث کرتا ہوں:۔
1)جاندار اشیا کی تخلیق کے حوالے سے،جیسا کہ بائیولوجی کی تاریخ میں رقم ہے، جس کاذکر نویں جماعت کی بایئولوجی کی کتاب میں بھی ہے کہ دو مکاتب فکر کے گروہ تھے۔ ایک مکتبہ فکر والے کو Abiogenesis کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ دوسرے کو Biogenesis کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

Friday, September 2, 2016

تعلیم کے مواقع صرف ’’افلاطونوں ‘‘ کے لئے

تعلیم کے مواقع صرف ’’افلاطونوں ‘‘ کے لئے


’’ کیسے ‘‘ اور ’’کس نے‘‘ میں فرق


’’ ہر شے کا خالق ہوتا ہے ‘‘ کا قانون وجودِ خدا کے لئے کیوں نہیں بھئی؟


ملحدین اگر کروڑوں اور اربوں چیزوں کے بارے میں یہ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ خود بخود پیدا ہوئے ہیں تو پھر خدا کے وجود پہ یہ سوال اٹھانے کا بھلا کیا جواز رہ جاتا ہے ان کے ہاں کہ خدا کو کس نے بنایا؟ کروڑوں اور اربوں چیزوں کا بغیر خالق کے بننا ان کے لئے باعث ِ تعجب نہیں،لیکن جب بات خدا کے وجود کی آجاتی ہے تو خدا کے لئے پھر یہ لوگ خالق کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ کروڑوں اور اربوں چیزوں کا خود بخود
موجود ہونے کے مقابلے میں ان سب کے ایک خالق ذات کا خود بخود موجود ہونے کا یقین کرنا زیادہ آسان ہے۔ بہرحال ہم مسلمان جب ’’ہر شے کا خالق ہوتا ہے‘‘ کی

’’ وجودِ خدا‘‘مافوق الفطرت کیوں؟


سائنس کے مطابق جدید انسانی نسل کا آغاز200,000 سال قبل یعنی تقریباََ 1,97,985 ق م (قبل از مسیح) میں ہوا۔ یہ خیال کہ زمین گول ہے 6؁ء میں Pythagoras نے پیش کیا جسے درست Ferdinand Magellan نے 1522؁ء میں ثابت کیا۔ گویا انسان کو اپنی پیدائش کے 1,99,507سال بعد پتا چلا کہ زمین گول ہے۔یہ پتا کہ زمین
سورج کے گرد گھومتی ہے Sir Isaac Newton نے 1688؁ء میں لگا یا۔یعنی انسان کو اپنی پیدائش کے 1,99,673 سال بعد یہ پتا چلا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ بیکٹیریا کو 1660؁ء میں Anton Van Leeuwenhoek نے دریافت کیا،یعنی بیکٹیریا نامی کوئی

’’پاکستان میں صحافت‘‘



                           
’’پاکستان میں صحافت‘

صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جوظلم اور برائیوں کو آشکارہ کرنے اور ان سے متعلقہ با اختیار اداروں کو آگاہ کرکے ان کی بیخ کنی کی طرف توجہ دلانے کا نام ہے۔ صحافی کے بارے میں عام طور پر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ صحافی کا معاشرے اور اداروں پر ایک رعب اور دبدبہ چھایا رہتا ہے،ہر جگہ اس کی عزت کی جاتی
ہے،بات سنی اور مانی جاتی ہے،اور اسی لالچ کو استعمال کرتے ہوئے نیوز ایجنسیز کے مکار مالکان بھی  کافی حد تک نئے بھرتی ہونے والے صحافیوں کو بغیر تنخواہ کے کام کرنے پہ آمادہ کرکے ان کا استہسال کر کے کماتے  ہیں۔ بے شک ایک طرف ایسے صحافی بھی موجود ہیں ،جن کا معاشرے میں ایک رعب اور دبدبہ ہوتا ہے ،لیکن

’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘



عمران ریحام علیحدگی ،سلیم صافی اور جیو نیوز کا کردار



’’ اردو زبان کا رسم الخط اور تلفظ‘‘



"کھودا پہاڑ نکلا چوہا نیوز ایجنسی"


(تحریر: ارشد خان آستکؔ، شاعر و کالم نگار)

گزشتہ ایک عشرے سے عوام خاص کر نوجوان نسل چونکہ ٹی وی اور پرنٹ میڈیا سے غافل ہوکر انٹرنیٹ اور انٹرنیٹ پر بھی خاص کر سوشل میڈیا سائٹس پر زیادہ مصروف نظر آتے ہیں، تو اخبار مالکان نے ان کو اخباروں کی طرف راغب کرنے کے لئے مل کر سوشل

کرکٹ اور پارٹی بازی،نفسیاتی امراض

کرکٹ اور پارٹی بازی،نفسیاتی امراض
موت تو آکر ہی رہتی ہے لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کم سے کم دو طرح کے اموات سے تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ مجھے محفوظ رکھے گا ان شا اللہ۔ نمبر1: کرکٹ کی ہارجیت کی وجہ سے دل کا دورہ پڑھنا۔ نمبر2: سیاسی پارٹی بازیوں میں حصہ لیتے ہوئے کسی سیاسی لیڈر کی چمچہ گیری کر

مولانا فضل الر حمان صاحب کا کردار

تحریر: ارشد خان آستِکؔ(لیدبیرؔ) اردو شاعر و کالم نگار

میں بچپن سے علمائے کرام سے الحمداللہ خصوصی لگاو رکھتا ہوں،علمائے کرام اچھے لوگ ہوتے ہیں،مگرجس طرح ہر طبقے کے اندر کالی بھیڑیں ہوتی ہیں،اسی طرح یہ طبقہ بھی ان سے خالی نہیں ہے۔ محض کسی کا عالم ہونا اس کے لئے کافی نہیں کہ وہ تقوٰی دار بھی ہوا۔ اور جس طرح ایک ہاتھ کی پانچ انگلیاں بھی ایک جیسی نہیں

"یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود"

تحریر ارشد خان آستک۔ اردو شاعر و کالم نگار
صادق خان کا ایک یہودی کے مقابلے میں جیت حاصل کرنے کی وجہ ظاہر سی بات ہے ان کا با عمل اور پختہ عقیدہ مسلمان نہ ہونا ہی ہے۔ جو باعمل ؛ پختہ عقیدے والے

"قندیل بلوچ کے ساتھ ہمدردی میں تجاوز"

قندیل بلوچ کے لئے ہم دعائے مغفرت ضرور کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو ہوا اسے ظلم بھی سمجھتے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ ہم ان کے برے کاموں کو نیکیاں نہیں کہہ سکتے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قندیل بلوچ اولیاء میں سے تھیں۔اور جو کچھ اس نے زندگی میں کیا ہے وہ نعوذ با اللہ دین کی یا انسانیت کی کوئی خدمت تھی۔ اس کا کوئی یہ بھی مطلب نہ لے کہ ہمیں خود ولی ہونے کا دعوٰی ہے۔

Sunday, August 28, 2016

’’جواز‘‘

تحریر: ارشد خان آستِکؔ(لیدبیرؔ) اردو شاعر و کالم نگار
انسان کی سیرت ایک کمرے کی مانند ہے۔ اور غلطیاں گندگی کی مانند ہوتی ہیں۔ اور جواز ایک خوبصورت قالین ہے۔ جب انسان غلطی کرے،تو اس کی مثال ایک ٹائلڈ اور فرنیشڈ فلور والے کمرے میں گند پھیکنا ہوتا ہے،جس سے چٹکارا  پانے کے دو طریقے ہوتے ہیں:
۱) گند کو باہر پھینکا(اس طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ اس

’’اسلام میں سزا کا نظریہ‘‘

’’اسلام میں سزا کا نظریہ‘‘
’’اسلام میں سزا کا نظریہ‘‘ تحریر: ارشد خان آستِکؔ(لیدبیرؔ)۔اردو شاعر و کالم نگار چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان معصوم لڑکی کی تصاویر شئیر ہو رہے ہیں جس میں دکھا یا گیا ہے کہ اسے غالباََ افغانستان میں کسی جہادی تنظیم کے ہاتھوں زنا کے الزام میں سنگسار کیا گیا ہے۔ جس پر سوشل میڈیا پر نہایت غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے،کچھ لوگ تو اس میں

’ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کرو‘‘

’ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کرو‘‘
’ریختہ خوب ہی کہتا ہے جو انصاف کرو‘‘
تحریر: ارشد خان آستِکؔ ( لیدبیرؔ) (اردو شاعر و کالم نگار)

کہنے کی حد تک تو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہماری قومی زبان اردو ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ اردو زبان کے ساتھ ہر کوئی کھیلتا ہے۔ یہ زبان اگر پاکستان کی Westren Mindedلوگوں کے پاس چلی جاتی ہے تو وہ لوگ 70% انگلش اس میں شامل کرتے ہیں اور کچھ 30% اردو کے

’’خدا کی موجودگی کے دلائل‘‘

                 ’’خدا کی موجودگی کے دلائل‘‘
  ’’خدا کی موجودگی کے دلائل‘‘
تحریر: ارشد خان آستِکؔ(لیدبیرؔ)
اردو شاعر و کالم نگار
       
      بڑی بڑی چیزیں تو دور کی بات کوئی ایک سوئی ایک کیل بھی کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بنتا۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں کارخانے نہ بنانے پڑتے،کام نہ کرنا پڑتا۔ ہم یہ تو مانتے ہیں کہ کمپیوٹر کو عام انسانوں نے بھی نہیں بلکہ عالم فاضل سائنسدانوں نے بنایا ہے جو کہ صدیوں کی محنت کے باوجود بھی اس لیول کے کام سر انجام دینے

"یہ اور وہ ؛ اگر مگر ؛ کچھ نہیں ؛ ہمیں مشکور ہونا چاہئیے ان کا"

"یہ اور وہ ؛ اگر مگر ؛ کچھ نہیں ؛ ہمیں مشکور ہونا چاہئیے ان کا"
"یہ اور وہ ؛ اگر مگر ؛ کچھ نہیں ؛ ہمیں مشکور ہونا چاہئیے ان کا"
تحریر : ارشد خان آستک ؛ شاعر و کالم نگار)
کل سارا دن سوشل میڈیا پر ایدھی صاحب کے حق میں اور خلاف پوسٹس پڑھ پڑھ کر ہم بھی ایک نتیجے پر پہنچے وہ یہ کہ بہرحال "ایدھی صاحب ! ہم مشکور ہیں آپ کے "۔ کیوں اور کیسے؟ یہ وضاحت ذیل میں ملاحظہ ہو : -
1) عبدالستار ایدھی کے کفر کے فتوے صادر فرمانے والوں کو یہ بات یاد رہنی چاہئیے کہ کسی کو کافریا مسلمان قرار دینے کا

Monday, July 25, 2016

’’سائنس ،الحاد(دہریت) اور مذہبِ اسلام‘‘

                               ’’سائنس ،الحاد(دہریت) اور مذہبِ اسلام‘‘
تحریر: ارشد خان آستِکؔ ( لیدبیرؔ) (اردو شاعر و کالم نگار اخبارِخیبر)

نیم ملا دوسروں کی ایمان کے لئے تو خطرہ ہوتا ہی ہے مگر دوسروں کا ایمان بگاڑنے کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے ایمان کو بھی ظاہر سی بات ہے کہ خطرہ لاحق ہوتاہے۔ہمارے موضوع کے مطابق یہ ضرب المثل ہمارے لئے اردو کے ان الفاظ کی نسبت انگریزی والے الفاظ میں زیادہ با معنی ہے کہ
"A little knowledge is a dangerous thing"
یعنی  ’’تھوڑا علم خطرناک چیز ہے‘‘ ۔ مطلب یہ ہوا کہ